حضرت طالوت اور جالوت کا واقعہ

قصص القرآن: حضرت طالوت اور جالوت کا واقعہ


1. بنی اسرائیل کی نافرمانی اور صحرائے تیہ


حضرت موسیٰؑ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل مسلسل نافرمانی، جہاد سے گریز، اور دینی احکام کی خلاف ورزی میں مبتلا ہو گئے۔ ان کی سرکشی کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک صحرائے تیہ میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت موسیٰ کے خادم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے لے کر جائیں اور ارضِ مقدّس کو کفار سے آزاد کروائیں۔

حضرت یوشعؑ نے قومِ عمالقہ اور دوسرے ظالموں کے خلاف جہاد کیا، اور اللہ نے ان کو بڑی کامیابی عطا فرمائی۔ فتح کے بعد انہوں نے علاقے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیے اور ایک نظم و نسق قائم کیا۔ حضرت یوشعؑ کے انتقال کے بعد تقریباً ساڑھے تین سو سال تک بنی اسرائیل میں کوئی مرکزی قیادت نہ رہی، اور قوم پستی میں گرتی چلی گئی۔


---


2. جالوت کا حملہ اور تابوت سکینہ کی چھنائی


اس دور میں ایک ظالم حکمران جالوت نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا، اُن کے بڑے سرداروں کو قید کیا، اور ان کا سب سے متبرک صندوق یعنی تابوتِ سکینہ بھی چھین لیا۔ اس تابوت میں توریت کا اصل نسخہ، حضرت موسیٰ و ہارونؑ کے تبرکات (عصا، پیرہن، من کا مرتبان) موجود تھے۔


قوم سخت پریشان تھی۔ نبوت کا سلسلہ کچھ وقت رکا رہا۔ ایسے میں ایک نیک خاتون کے بطن سے حضرت شمویل علیہ السلام پیدا ہوئے، جو بعد میں نبی بنائے گئے۔ حضرت شمویلؑ نے توریت کی تعلیم پھیلائی اور بنی اسرائیل کی اصلاح شروع کی۔


---


3. بادشاہ کے تقرر کی درخواست


حضرت شمویلؑ کے زمانے میں جب جالوت کی شرارتیں بڑھ گئیں، تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی:


> "ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کریں۔"




نبی نے فرمایا:


> "اگر جہاد فرض ہوا تو شاید تم پیچھے ہٹ جاؤ گے۔"

وہ بولے:

"ہم اپنے گھروں اور بچوں سے نکال دیے گئے ہیں، کیوں نہ لڑیں گے؟"




---


4. حضرت طالوتؑ کا انتخاب


اللہ تعالیٰ نے حضرت شمویلؑ پر وحی نازل کی کہ بنی اسرائیل پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا جائے۔ قوم نے اعتراض کیا کہ:


> "طالوت نہ مالدار ہیں، نہ اونچے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔"




نبی نے فرمایا:


> "اللہ نے طالوت کو علم اور جسمانی قوت میں تم پر فضیلت دی ہے۔ بادشاہت اللہ کی عطا ہے، جسے چاہے دے۔"




اس کے بعد بطور نشانی اللہ تعالیٰ نے تابوتِ سکینہ فرشتوں کے ذریعے واپس لوٹا دیا، جو طالوتؑ کے دروازے پر لا کر رکھا گیا۔ یہ نشانی دیکھ کر قوم مطمئن ہو گئی اور طالوت کو بادشاہ تسلیم کر لیا۔


(123)

---


5. طالوت کا امتحان: دریا کا واقعہ


طالوت نے ایک لشکر لے کر جہاد کے لیے نکلے۔ راستے میں ایک نہر آئی (جسے اکثر مفسرین نہر اردن کہتے ہیں)۔ طالوت نے کہا:


> "اللہ نے تمہیں اس نہر سے آزمانا ہے: جو پیے گا وہ میرا نہیں، اور جو صرف ایک چلّو بھرے گا، وہ میرا ساتھی ہے۔"




اکثر لوگوں نے خوب پانی پی لیا اور امتحان میں ناکام ہو گئے۔ صرف 313 افراد ثابت قدم رہے۔



---


6. جالوت کا سامنا اور خوف


جب وہ تھوڑے سے لوگ جالوت کی عظیم فوج کے سامنے پہنچے، تو کئی کمزور ایمان والے گھبرا گئے۔ مگر کچھ اہلِ ایمان نے بلند حوصلہ دکھایا اور کہا:


> "کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ جاتی ہیں۔"



انہوں نے دعا کی:


> "اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، ہمیں ثابت قدم رکھ، اور کفار پر ہمیں فتح عطا فرما!"

(البقرہ: 250)





---


7. حضرت داؤدؑ کا ظہور اور جالوت کا انجام


اس فوج میں ایک نوجوان حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے۔ جب جالوت نے مبارزت (اکیلا مقابلہ) کے لیے پکارا، تو داؤدؑ نے اجازت مانگی۔ طالوت نے پہلے انکار کیا، مگر داؤدؑ کے اصرار پر اجازت دے دی۔


حضرت داؤدؑ آگے بڑھے، ایک غلیل سے تین پتھر مارے، جن میں سے ایک جالوت کے ماتھے پر لگا اور وہ گر پڑا۔ داؤدؑ نے آگے بڑھ کر اس کی گردن کاٹ دی۔ جالوت کے مرنے کے بعد دشمن فوج بدحواس ہو گئی، اور طالوت کی فوج نے فتح حاصل کی۔


> "اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا، اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا فرمائی۔"

(سورۃ البقرہ: 251)



طالوت نے وعدہ پورا کرتے ہوئے داؤدؑ کو اپنی بیٹی "میکال" سے نکاح میں دیا اور حکومت میں شریک کیا۔ بعد میں داؤدؑ خود نبی اور بادشاہ بنے۔



---


🌟 حاصلِ کلام اور سبق


نکتہ تفصیل


📌 قیادت کا معیار مال و نسب نہیں، علم و تقویٰ اور قوت ہے (طالوتؑ کی مثال)

📌 اللہ کی مدد تھوڑے اہلِ ایمان کے ساتھ بھی اللہ کی مدد آتی ہے

📌 صبر اور دعا میدانِ جنگ ہو یا زندگی، کامیابی کا راز صبر اور دعا ہے

📌 ایمان اور قربانی جو آزمائش میں کامیاب ہوتے ہیں، وہی اللہ کے محبوب بنتے ہیں

📌 داؤدؑ کا کردار کمزور نظر آنے والا بھی اللہ کے حکم سے طاقتور کو گرا سکتا ہے

---

(123)

📚 مستند مصادر:


قرآن کریم: سورۃ البقرہ، آیات 246–251


قصص الانبیاء: امام ابن کثیرؒ


روح المعانی: علامہ آلوسیؒ


تفسیر معارف القرآن: مفتی محمد شفیعؒ


تفسیر صلاح الدین یوسف


البدایہ والنہایہ: امام ابن کثیرؒ

Comments

Popular posts from this blog

Surah Yaseen with Arabic Text and HD Tilawat | Listen & Read Online

Surah Yaseen | Heart-Touching Quran Recitation with Tajweed | سورہ یس

Learn Quran Online with Tajweed - Free Trial Classes for Kids & Adults