حضرت طالوت اور جالوت کا واقعہ
✨ قصص القرآن: حضرت طالوت اور جالوت کا واقعہ 1. بنی اسرائیل کی نافرمانی اور صحرائے تیہ حضرت موسیٰؑ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل مسلسل نافرمانی، جہاد سے گریز، اور دینی احکام کی خلاف ورزی میں مبتلا ہو گئے۔ ان کی سرکشی کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک صحرائے تیہ میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت موسیٰ کے خادم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے لے کر جائیں اور ارضِ مقدّس کو کفار سے آزاد کروائیں۔ حضرت یوشعؑ نے قومِ عمالقہ اور دوسرے ظالموں کے خلاف جہاد کیا، اور اللہ نے ان کو بڑی کامیابی عطا فرمائی۔ فتح کے بعد انہوں نے علاقے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیے اور ایک نظم و نسق قائم کیا۔ حضرت یوشعؑ کے انتقال کے بعد تقریباً ساڑھے تین سو سال تک بنی اسرائیل میں کوئی مرکزی قیادت نہ رہی، اور قوم پستی میں گرتی چلی گئی۔ --- 2. جالوت کا حملہ اور تابوت سکینہ کی چھنائی اس دور میں ایک ظالم حکمران جالوت نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا، اُن کے بڑے سرداروں کو قید کیا، اور ان کا سب سے متبرک صندوق یعنی تابوتِ سکینہ بھی چھین لیا۔ اس تابوت میں توریت...